MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

درد اوڑھا ہے غم کو لبادہ کیا

درد اوڑھا ہے غم کو لبادہ کیا
بے ارادہ کبھی بالارادہ کیا


دوستوں سے تو کیا دشمنوں سے بھی ہم
مسکرا کر ملے دل کشادہ کیا


راستے میں ہی مجھ سے جدا ہو گیا
جس کی خاطر سفر کا ارادہ کیا


اس نے اک بار پھر کر کے قول و قرار
بے قراری کا میری اعادہ کیا


پھول کی پتیوں نے لبوں سے ترے
نازکی کے لئے استفادہ کیا


زندگی کو ملی تب نویدِ سحر
شام تک جب سفر پا پیادہ کیا


آسمانوں پہ منزل ہے انسان کی
اور زمیں کو ہے پھر اس کا جادہ کیا


یوں تو مشکل طلب آپ بھی ہے سعید
اس پہ سب نے ستم بھی ذیادہ کیا

احمد سعید خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم