MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا

رچے بسے ہوئے لمحوں سے جب حساب ہوا
گئے دنوں کی رتوں کا زیاں ثواب ہوا

گزر گیا تو پس موج بے کناری تھی
ٹھہر گیا تو وہ دریا مجھے سراب ہوا

سپردگی کے تقاضے کہاں کہاں سے پڑھوں
ہنر کے باب میں پیکر ترا کتاب ہوا

ہر آرزو مری آنکھوں کی روشنی ٹھہری
چراغ سوچ میں گم ہیں یہ کیا عذاب ہوا

کچھ اجنبی سے لگے آشنا دریچے بھی
کرن کرن جو اجالوں کا احتساب ہوا

وہ یخ مزاج رہا فاصلوں کے رشتوں سے
مگر گلے سے لگایا تو آب آب ہوا

وہ پیڑ جس کے تلے روح گنگناتی تھی
اسی کی چھاؤں سے اب مجھ کو اجتناب ہوا

ان آندھیوں میں کسے مہلت قیام یہاں
کہ ایک خیمۂ جاں تھا سو بے طناب ہوا

صلیب سنگ ہو یا پیرہن کے رنگ نصیرؔ
ہمارے نام سے کیا کیا نہ انتساب ہوا

نصیر ترابی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم