شکل و صورت سے نظر آتے تھے مغرور چراغ
ہم شبِ غم کے ستائے ہوئے بے نور چراغ
میرے آنگن کو اجالے کی نہیں ہے عادت
میری چوکھٹ سے جلا آؤ کہیں دور چراغ
زخم ہر شام ہتھیلی پہ یوں لو دیتے ہیں
جیسے جلتے ہیں مسلسل ، شبِ عاشور ، چراغ
میری مٹھی میں جو جگنو ہیں وہی کافی ہیں
نہ ترے چاند کی خواہش ہے نہ منظور چراغ
رات ، کندھوں پہ اٹھائے ہوئے بجھ جاتے ہیں
ہم ہیں اجرت پہ بلائے گئے مزدور ، چراغ
تیرگی والے مری ضد کو نہیں جانتے ہیں
میرے شجرے میں لکھا جائے گا غیّور چراغ
اب مرے بعد مرے گھر میں پڑے ہوتے ہیں
عطر ، لوبان ، اگر بتّیاں ، کافور ، چراغ
کومل جوئیہ