MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

غزل

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے
جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے

خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے
خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے

راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے
وہ جو آشنائی تھی وہ تو نا شناسی ہے

ہم کسی نئے دن کا انتظار کرتے ہیں
دن پرانے سورج کا شام باسی باسی ہے

دیکھ کر تمہیں کوئی کس طرح سنبھل پائے
سب حواس جاگے ہیں ایسی بد حواسی ہے

زخم کے چھپانے کو ہم لباس لائے تھے
شہر بھر کا کہنا ہے یہ تو خوں لباسی ہے

ثروت زہرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم