MOJ E SUKHAN

مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیں

غزل

مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیں
مجھے بزم قدس میں دے جگہ جو وہاں نہیں تو کہیں نہیں

ہے جبیں تو اصل میں وہ جبیں کہ جھکے وہاں تو جھکی رہے
ترے آستاں سے جو اٹھ گئی وہ جبیں تو کوئی جبیں نہیں

مرے دل کی نذر قبول کر جو اشارہ ہو تو یہ سر نثار
کہ وفائے عہد کی شرط میں کہیں درج لفظ نہیں نہیں

یہ عرب بھی ہے مرے روبرو یہ عجم بھی ہے مرے سامنے
مری جستجو کو یقین ہے کہیں تجھ سا کوئی حسیں نہیں

ترے کند تیشے سے راہرو یہ چٹان کیسے کٹے بھلا
ترے ہاتھ یخ ترے پاؤں شل ترے دل میں سوز یقیں نہیں

یہ جو بندگی ہے عروجؔ کی تری زندگی سے ہے قیمتی
نہ ہو بندگی تو فضول ہے کوئی وزن اس کا کہیں نہیں

عروج قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم