MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے

غزل

محبت ہو گئی جس کو اسے اب دیکھنا کیا ہے
بھلا کیا ہے برا کیا ہے سزا کیا ہے جزا کیا ہے

ذرا تم سامنے آؤ نظر ہم سے تو ٹکراؤ
کسے پھر ہوش ہو تم نے کہا کیا ہے سنا کیا ہے

محبت جرم ایسا ہے کہ مجرم ہے کھڑا بے سدھ
کیا کیا ہے گنہ کیا ہے سزا کیا ہے خطا کیا ہے

نہ آنا عشق کے بازار میں اندھی تجارت ہے
دیا کیا ہے لیا کیا ہے بکا کیا ہے بچا کیا ہے

زمانہ جھوم اٹھا ہے صدائے داد آتی ہے
نہ جانے آج ماہمؔ نے غزل میں کہہ دیا کیا ہے

ماہم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم