MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیں

کچھ خوفناک اندھی گپھاؤں میں قید ہیں
سب لوگ اپنی اپنی اناؤں میں قید ہیں

نکلے جو لفظ منہ سے فضاؤں میں قید ہیں
پیغام جانے کتنے ہواؤں میں قید ہیں

آوارگی کا شکوہ وہ کرنے لگے مگر
چکر ابھی کئی میرے پاؤں میں قید ہیں

جاتی ہے اب کشادہ سڑک شہر کی طرف
کچھ سادہ لوگ آج بھی گاؤں میں قید ہیں

تھوڑی سی بجلیوں میں چمک اور چاہیے
طوفان بے شمار گھٹاؤں میں قید ہیں

اب تک کیے قبیلے نے جتنے بھی فیصلے
پیپل کے بوڑھے پیڑ کی چھاؤں میں قید ہیں

رجب چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم