MOJ E SUKHAN

کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا

غزل

کوئی کسی کا کہیں آشنا نہیں دیکھا
سوائے اس کے ان آنکھوں نے کیا نہیں دیکھا

یہ لوگ منع جو کرتے ہیں عشق سے مجھ کو
انھوں نے یار کو دیکھا ہے یا نہیں دیکھا

بھلائی کیا دل کافر نے بت میں پائی ہے
جہاں میں کوئی اتنا برا نہیں دیکھا

کچھ اس جہاں میں نہ دیکھیں گے کیونکہ اندھے ہیں
اسی جہاں میں جنھوں نے خدا نہیں دیکھا

بہ رنگ سایہ و خورشید اے بیاںؔ میں نے
کبھو رقیب سے اس کو جدا نہیں دیکھا

بیاں احسن اللہ خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم