MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ کون تم سے اب کہے

یہ کون تم سے اب کہے
یہ روز روز درد کے جو سلسلے ہیں کم کرو
ذرا تو تم کرم کرو
جو روز روز آؤ گے جو روز روز جاؤ گے
کہاں تلک رلاؤ گے کہاں تلک ستاؤ گے
نہ مجھ پہ اب ستم کرو جو ہو سکے کرم کرو
ملا گیا ہے راستہ یہ مشکلوں سے جو ہمیں
ملیں تو اس طرح ملیں کہ پھول بن کے ہم کھلیں
یہ میں جو میں ہوں نہ رہوں
یہ تم جو تم ہو نہ رہو
کچھ اس طرح بہم کرو
چلو یہ دھاگے زیست کے انگلیوں پہ ڈال کے
کھیلتے ہیں ہم ذرا بھولتے ہیں سب ذرا
کہیں اگر الجھ گئے تو پیار سے سلجھ گئے
محبتوں کے کچھ دئیے جو مل کے ہم جلائیں گے
کبھی جلے کبھی بجھے کبھی بجھے کبھی جلے
چراغ زندگی اگر
تو مل کہ ہم بچائیں گے
بچھڑ گئے تو پھول کھل نا پائیں گے
یہ کون تم سے اب کہے

الماس شبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم