MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا

ان کا برباد کرم کہنے کے قابل ہو گیا
درد پہلو میں جہاں بھی تھا وہیں دل ہو گیا

بارہا دیکھا ہے دل نے او مرے محو خرام
حشر اٹھا اور ترے قدموں میں شامل ہو گیا

دل جہاں اچھلا فضائے دو جہاں پر چھا گیا
عرصۂ کونین جب سمٹا مرا دل ہو گیا

بے خبر رہنا ہی اچھا اس جہان غیر میں
مٹ گیا جو واقف آداب محفل ہو گیا

جو نگاہ شوق اٹھی حسن بن کر رہ گئی
جو قدم ہم نے اٹھایا نقش منزل ہو گیا

یا کبھی منزل تھی مقصود مذاق جستجو
یا مذاق جستجو مقصود منزل ہو گیا

ہائے باسطؔ یہ مرے خون تمنا کا اثر
اور بھی رنگین کچھ دامان قاتل ہو گیا

باسط بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم