MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا

غزل

رفتہ رفتہ سب مناظر کھو گئے اچھا ہوا
شور کرتے تھے پرندے سو گئے اچھا ہوا

کوئی آہٹ کوئی دستک کچھ نہیں کچھ بھی نہیں
بھولی بسری اک کہانی ہو گئے اچھا ہوا

ایک مدت سے ہمارے آئینے پہ گرد تھی
آنسوؤں کے سیل اس کو دھو گئے اچھا ہوا

بیکلی کوئی نہ تھی تو دل بڑا بے زار تھا
اب حوادث درد اس میں بو گئے اچھا ہوا

رنگ اپنا ہو نمایاں شوق بے جا تھا ہمیں
راستوں کی دھول میں ہم کھو گئے اچھا ہوا

بے سبب روتا تھا فکریؔ اور رلاتا تھا ہمیں
اب زمانہ ہو گیا اس کو گئے اچھا ہوا

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم