MOJ E SUKHAN

یہ دل کہتا ہے اداکار تیرے بس میں نہیں

یہ دل کہتا ہے اداکار تیرے بس میں نہیں
میں خون تھوکتا کردار تیرے بس میں نہیں

میں مانتا ہوں کہ تجھ کو بھلا نہیں سکتا
مجھے بھلانا بھی اے یار تیرے بس میں نہیں

ہے روز بارگاہِ دل میں آگ پر ماتم
یہ غم منانا عزا دار تیرے بس میں نہیں

مرے خدا ہو مجھے بھی بشارتیں بخشش
نہیں کہ مجھ سا گناہ گار تیرے بس میں نہیں

مری نظر میں ہیں اسلوب نقد و فکر و سخن
مرے وجود کا انکار تیرے بس میں نہی

فرتاش سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم