MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جلووں کا جو تیرے کوئی پیاسا نظر آیا

جلووں کا جو تیرے کوئی پیاسا نظر آیا
وہ ذات میں اپنی ہمیں دریا نظر آیا

زد پر جو نگاہوں کی وہ چہرا نظر آیا
کچھ رنگ حیا اور نکھرتا نظر آیا

یہ حسن تغزل کا کرشمہ نظر آیا
وہ جان غزل شعر سراپا نظر آیا

اک سلسلۂ لا متناہی تھا غم عشق
ارمان سے ارمان نکلتا نظر آیا

رشک مہ و خورشید وہ مٹی کا دیا تھا
جو رخ پہ ہواؤں کے بھی جلتا نظر آیا

میں نے تو کبھی آپ کو تنہا نہیں دیکھا
میں آپ کو محفل میں بھی تنہا نظر آیا

دل میرا بھر آیا بہ غم ترک محبت
خالی تھا مگر جام چھلکتا نظر آیا

پردے پہ جمی رہ گئیں خاموش نگاہیں
یوں بھی پس پردہ ترا چہرا نظر آیا

مجھ پر تو جمی تھیں تری محفل کی نگاہیں
میں وہ تھا کہ محفل میں بھی تنہا نظر آیا

ساقی نے مجھے خاص نگاہوں سے جو دیکھا
شعلہ سا مرے جام سے اٹھتا نظر آیا

اک دشمن ایماں سے ہو امید وفا کیا
کب دشت میں دیوار کا سایا نظر آیا

خوش رنگ ہوا اور تری یاد کا منظر
پلکوں پہ اگر کوئی ستارا نظر آیا

سولی پہ چڑھا کوئی کوئی طور پہ پہنچا
اخگرؔ ترے کوچے سے گزرتا نظر آیا

حنیف اخگر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم