MOJ E SUKHAN

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے

غزل

تیرے در سے اٹھے غم اٹھاتے رہے
بزم خواب محبت سجاتے رہے

چلتے چلتے ملے کتنے دشت جنوں
گیت الفت کے ہم تو سناتے رہے

خود تو جہد و عمل سے گریزاں رہے
نقش قسمت مگر وہ بتاتے رہے

یوں تو تاریک تھی اپنی راہ سفر
خون دل سے دیے ہم جلاتے رہے

ریگزاروں میں حسن وفا کا صلہ
یار یاروں سے نظریں چراتے رہے

احسان جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم