MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محبت ہے لیکن جتاتی نہیں میں

محبت ہے لیکن جتاتی نہیں میں
ہتھیلی پہ سرسوں جماتی نہیں میں

چھلک اُٹھتیں آنکھیں سرِ بزم ِیاراں
اگر زیرِلب مسکراتی نہیں میں

لہو رنگ بن کر اُبھرتا اُفق پر
اگر حال دل کا سناتی نہیں میں

چراغوں کی مانند جل جاتیں آنکھیں
اگر چند آنسو بہاتی نہیں میں

اندھیروں کے ڈر سے اُجالوں کی خاطر
کبھی گھر کسی کا جلاتی نہیں میں

جو میری زمیں کو لہو رنگ کر دے
بغاوت کے وہ گیت گاتی نہیں میں

کہیں آگ بھڑکے بُجھا دونگی فوراً
چراغوں کو لیکن بُجھاتی نہیں میں

جو مہندی لگائی تھی ہاتھوں میں میں نے
حنا کی وہ خوشبو لُٹاتی نہیں میں

مجھے شاہدہ سے محبت ہے لیکن
کبھی ناز اِس کے اُٹھاتی نہیں میں

شاہدہ عروج خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم