MOJ E SUKHAN

جواب سارے سوالیہ کرکے آ رہا ہوں

جواب سارے سوالیہ کرکے آ رہا ہوں
میں زندگی سے مکالمہ کر کے آ رہا ہوں

پرند مجھ پر اترنے والے ہیں دھیرے دھیرے
میں سبز پیڑوں سے رابطہ کر کے آ رہا ہوں

تری حویلی میں آنا آسان تو نہیں تھا
چٹان حائل تھی راستہ کر کے آ رہا ہوں

تمام دشمن تو مجھ کو تسلیم کر چکے ہیں
میں دوستوں سے مقابلہ کر کے آ رہا ہوں

میں ایسے پہنچا نہیں ہوں مظہر ابد سے آگے
میں لامکاں سے مصافحہ کر کے آ رہا ہوں

محمد مظہر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم