MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شعر کہتا ہوں اب سہولت سے

شعر کہتا ہوں اب سہولت سے
اور وہ بھی عجب سہولت سے

لوگ جس پر نہیں ہوئے حیراں
کر لیا بے سبب سہولت سے

کبھی مشکل سے کہہ نہ پاتےتھے
اب جو کہتے ہیں سب سہولت سے

کیا وظیفہ ہے یہ محبت کا
پڑھ لیا زیرِ لب سہولت سے

ایک نعمت سے کم نہیں یہ بھی
رزق دیتا ہے رب سہولت سے

آ ، رہِ دل میں مرنا چاہتا ہے
اک ترا جاں بہ لب سہولت سے

تنگ دستوں میں جب شمار نہ ہو
کام ہوتے ہیں تب سہولت سے

خود پہ سو جبر سہنا پڑتے ہیں
نہیں آتا ادب سہولت سے

عادل آیا نہ جلد بازوں کو
بات کہنے کا ڈھب سہولت سے

عادل یزدانی چنیوٹ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم