MOJ E SUKHAN

پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے

پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئے
پلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئے

صوت و سخن کے دائرے تحلیل ہو گئے
قوس نظر سے دل میں اتر جانا چاہئے

احساس کی زباں کو لغت سے نکال کر
معنی کی سرحدوں سے گزر جانا چاہئے

دنیا کی وسعتیں ہیں بہ اندازۂ نظر
یہ دیکھنے کا کام ہے کر جانا چاہئے

تنہا نظر پہ کیجیے کس دل سے اعتبار
دل کو بھی تا بہ حد نظر جانا چاہئے

غم ہائے زندگی سے نہ تھا عمر بھر فراغ
اب کچھ تو زندگی کو سنور جانا چاہئے

جاؤں کہاں کہ خود مری راہیں سفر میں ہیں
راہیں سفر میں ہوں تو کدھر جانا چاہئے

زنجیری‌ مکاں ہے جہاں حسن لا مکاں
اس انجمن میں بار دگر جانا چاہئے

زمزم حریم کعبہ میں ہے مامتا کا دل
ہے شرط زیست ڈوب کے مر جانا چاہئے

جاں ہو اگر متاع طلب سے عزیز تر
پروانوں کو چراغ سے ڈر جانا چاہئے

یارو سنا ہے آپ میں گم ہو گیا ظفرؔ
اس خانماں خراب کے گھر جانا چاہیے

یوسف ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم