MOJ E SUKHAN

محبت میں کمی سی رہ گئی ہے

محبت میں کمی سی رہ گئی ہے
کہ بس اک بے بسی سی رہ گئی ہے

نہ جانے کیوں ہمارے درمیاں اب
فقط اک برہمی سی رہ گئی ہے

عجب یہ سانحہ گزرا ہے ہم پر
ترے غم کی خوشی سی رہ گئی ہے

سمندر کتنے آنکھوں میں اتارے
تو پھر کیوں تشنگی سی رہ گئی ہے

نہیں چڑھتا ہے اب یادوں کا دریا
مگر اک بیکلی سی رہ گئی ہے

خلش دل میں کوئی باقی ہے اب تک
کہ آنکھوں میں نمی سی رہ گئی ہے

وہی اک بات جو کہنی تھی تم سے
وہی تو ان کہی سی رہ گئی ہے

نزہت عباسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم