MOJ E SUKHAN

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں

غزل

کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں
یہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں

بہت مدت ہوئی یہ آرزو کرتے ہوئے ہم کو
کبھی منظر کہیں ہم کوئی ان دیکھا ہوا دیکھیں

سکوت شام سے پہلے کی منزل سخت ہوتی ہے
کہو لوگوں سے سورج کو نہ یوں ڈھلتا ہوا دیکھیں

ہوائیں بادباں کھولیں لہو آثار بارش ہو
زمین سخت تجھ کو پھولتا پھلتا ہوا دیکھیں

دھوئیں کے بادلوں میں چھپ گئے اجلے مکاں سارے
یہ چاہا تھا کہ منظر شہر کا بدلا ہوا دیکھیں

ہماری بے حسی پہ رونے والا بھی نہیں کوئی
چلو جلدی چلو پھر شہر کو جلتا ہوا دیکھیں

شہریار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم