MOJ E SUKHAN

تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا

تھے جو دو چار مر گئے ہیں کیا
وہ مرے یار مر گئے ہیں کیا

میرے مرنے پہ کیوں نہیں روتے
سب عزادار مر گئے ہیں کیا

اب کہاں ہیں وہ چارہ گر میرے
جا کے اُس پار مر گئے ہیں کیا

وہ تسلی جو دینے آتے تھے
دلِ بیمار مر گئے ہیں کیا

ہر طرف پارسا ہی بیٹھے ہیں
سب گُنہ گار مر گئے ہیں کیا

کیوں ہے ویرانی میکدے میں آج
سارے مے خوار مر گئے ہیں کیا .

شہرِ خَستہ یہ کیا ہوا تُجھ کو
تیرے معمار مر گئے ہیں کیا

کیوں یہ کاسہ بدست ہیں حاکم
جو تھے خوددار مر گئے ہیں کیا

دھول جمنے لگی ہے خوابوں پر
سب خریدار مر گئے ہیں کیا

جو پرندے شجر کی رونق تھے
وہ ندی پار مر گئے ہیں کیا

شبِ ظلمت ہے کُچھ کہو شاہ دل
تیرے اشعار مر گئے ہیں کیا

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم