MOJ E SUKHAN

رقص میں ہے جہاں کا جہاں آج کل

غزل

رقص میں ہے جہاں کا جہاں آج کل
ماند ہے گردشِ آسماں آج کل

آسماں پر نہیں زہرہ و مشتری
ہے زمیں پر ہر اک دل ستاں آج کل

نشۂ فصل گل بوئے مے حسن مہ
کھنچ کے سب آ گئے ہیں کہاں آج کل

منزل نہ فلک مجھ کو آواز دے
ہے مری راہ میں کہکشاں آج کل

علم کے آلپس پر ہیں طلب کے قدم
حوصلے اس قدر ہیں جواں آج کل

اس طرف آئیں روح الامیں سے کہو
مست ہے طوطیٔ خوش بیاں آج کل

سعید الطفر چغتائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم