MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جذبہِ دل کیسی شوریدہ سری ہے

Jazba e Dil Kaisi Shooreeda sari Hay

غزل

جذبہِ دل کیسی شوریدہ سری ہے
کوئی مشکل میرے سر پر آ پڑی ہے

سحر آگیں ہے بدن اس کا اگر چہ
لب گلابی آنکھ میں پاکیزگی ہے

کتنی سرعت سے پھلے فصل محبت
عاشقی کے بیج میں بالیدگی ہے

ہجر کے گہرے اندھیرے ڈر رہے ہیں
آ ہ سوزاں کی تپش میں روشنی ہے

میں سلیقے سے مرتب کر لوں سانسیں
پھر بتاتا ہوں مجھے کیوں بے کلی ہے

اب چلو ہم عشق سے توبہ ہی کر لیں
جل مریں گے عشق ہوتا آتشی ہے

بات ثاقب کرتا ہے سچ کی ہمیشہ
اور پھر کردار میں بھی پختگی ہے

رانا افتخار احمد ثاقب

Rana Iftikhar Ahmed Saqib

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم