MOJ E SUKHAN

ایک ہی طرح پہ ہر شخص کی قسمت نہ ہوئی

غزل

ایک ہی طرح پہ ہر شخص کی قسمت نہ ہوئی
سب کے حصے کی ترے غم کی مسرت نہ ہوئی

وہ محبت تری جس پر مرا سب کچھ بھی نثار
وہ مرا دل ہے کہ جس کی کوئی قیمت نہ ہوئی

ایسا بیگانہ غم لذت غم کیا جانے
جس کو تا عمر کسی سے بھی محبت نہ ہوئی

ہائے کم بخت نصیبہ ترے مہجوروں کا
عید کے دن بھی انہیں کوئی مسرت نہ ہوئی

وقت پر داغ محبت ہی مرے کام آیا
مجھ سے پرسس کی نکیرین کو جرأت نہ ہوئی

آپ کے پردے نے جب آپ کی سورت لے لی
یوں بھی کیا فاش پس پردہ حقیقت نہ ہوئی

دیکھنا شوخیٔ تہمت ایک وہ فرماتے کوئی
کیا خموشی بھی تری حسن شکایت نہ ہوئی

کل کا غم کیوں ہو کہ ہوں آپ کا پامال خرام
کیا مرے سامنے سو بار قیامت نہ ہوئی

بے کسی تیرے سوا کس نے مرا ساتھ دیا
کوئی ڈھارس بھی شریک غم غربت نہ ہوئی

آ گیا کام کسی وقت کا مرنا کاملؔ
مجھ تک آنے کی مری موت کو زحمت نہ ہوئی

کامل شطاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم