MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں

مثال شمع جلا ہوں دھواں سا بکھرا ہوں
میں انتظار کی ہر کیفیت سے گزرا ہوں

سب اپنے اپنے دیوں کے اسیر پائے گئے
میں چاند بن کے کئی آنگنوں میں اترا ہوں

کچھ اور بڑھ گئی بارش میں بے بسی اپنی
نہ بام سے نہ کسی کی گلی سے گزرا ہوں

پکارتی تھی مجھے ساحلوں کی خاموشی
میں ڈوب ڈوب کے جو بار بار ابھرا ہوں

کیوں اتنا میرے خیالوں میں بس گیا ہے کوئی
کبھی کسی کے تصور سے میں بھی گزرا ہوں

کوئی تو آج مجھے آنکھ بھر کے دیکھے گا
میں آج اپنے لہو میں نہا کے نکھرا ہوں

فاضل جمیلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم