MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نہ پوچھو عقل کی چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر

غزل

نہ پوچھو عقل کی چربی چڑھی ہے اس کی بوٹی پر
کسی شے کا اثر ہوتا نہیں کم بخت موٹی پر

کفن سے دوسروں کے جو سلاتے ہیں لباس اپنا
وہ جذبے ہنس رہے ہیں عشق سادہ کی لنگوٹی پر

یہی عیش ایک دن اہل ہوس کا خون چاٹے گا
ابھی کچھ دن لگا رکھیں وہ اس کتے کو روٹی پر

نہ جانے کیسے نازک تار کو مضراب نے چھیڑا
کہ وجد آخر انہیں بھی آ گیا نوچا کسوٹی پر

محبت کچھ بڑی ہے عمر میں اور ہے ہوس چھوٹی
مگر دل ہے کہ ہے سو جان سے لہلوٹ چھوٹی پر

سلیم احمد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم