دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے
غزل دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے میں یہ سمجھا کہ نوازش سے پکارا تم نے کیا حقیقت میں غم عشق سے مانوس ہوئے یا یوں ہی پوچھ لیا حال ہمارا تم نے میرے مکتوب محبت مجھے واپس دے کر کر لی تو ہے یہ محبت بھی گوارا تم نے نسبتاً آج […]
دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے Read More »