MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے

غزل دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے میں یہ سمجھا کہ نوازش سے پکارا تم نے کیا حقیقت میں غم عشق سے مانوس ہوئے یا یوں ہی پوچھ لیا حال ہمارا تم نے میرے مکتوب محبت مجھے واپس دے کر کر لی تو ہے یہ محبت بھی گوارا تم نے نسبتاً آج […]

دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے Read More »

نفس سے جو لڑا نہیں کرتے

غزل نفس سے جو لڑا نہیں کرتے روح پر وہ جلا نہیں کرتے کیوں نہ ہو پھر فساد دنیا میں لوگ خوف خدا نہیں کرتے اہل دل اہل ظرف اہل نظر بات دل کی کہا نہیں کرتے ان کا جینا عبث ہے دنیا میں جو کسی کا بھلا نہیں کرتے بزم عشرت میں عاشقان طرب

نفس سے جو لڑا نہیں کرتے Read More »

چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سے

غزل چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سے لے سبق دنیا مرے انجام سے روح کو ہم نے ہزاروں دکھ دئے نفس کو رکھا بڑے آرام سے ایک بازیچہ سمجھ کر اہل دل کھیلتے ہیں گردش ایام سے سوچئے ہر زاویے سے دہر میں کیسے گزرے زندگی آرام سے کر دیا ساقی نے ساغر

چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سے Read More »

ہم کیا کہیں کہ آبلہ پائی سے کیا ملا

غزل ہم کیا کہیں کہ آبلہ پائی سے کیا ملا دنیا ملی کسی کو کسی کو خدا ملا ہم خود کو دیکھنے کے تو لائق نہ تھے مگر ہر آئنہ ہماری طرف دیکھتا ملا ایسا تھا کون روح کے اندر جو دیکھتا ہر سعبدطح میں وگرنہ ہمیں جانچتا ملا انسان اور وقت میں کب دوستی

ہم کیا کہیں کہ آبلہ پائی سے کیا ملا Read More »

پھول کے لائق فضا رکھنی ہی تھی

غزل پھول کے لائق فضا رکھنی ہی تھی ڈر ہوا سے تھا ہوا رکھنی ہی تھی گو مزاجاً ہم جدا تھے خلق سے ساتھ میں خلق خدا رکھنی ہی تھی یوں تو دل تھا گھر فقط اللہ کا بت جو پالے تھے تو جا رکھنی ہی تھی ترک کرنی تھی ہر اک رسم جہاں ہاں

پھول کے لائق فضا رکھنی ہی تھی Read More »

میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں

غزل میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں اے دوست مجھے سن کہ میں گنبد کی صدا ہوں جس راہ سے پہلے کوئی ہو کر نہیں گزرا اس راہ پہ میں نقش قدم چھوڑ رہا ہوں میں اپنے اصولوں کا گراں بار اٹھائے ہر وقت ہواؤں کے مخالف ہی چلا ہوں بے مایہ

میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں Read More »

جانب در دیکھنا اچھا نہیں

غزل جانب در دیکھنا اچھا نہیں راہ شب بھر دیکھنا اچھا نہیں عاشقی کی سوچنا تو ٹھیک ہے عاشقی کر دیکھنا اچھا نہیں اذن جلوہ ہے جھلک بھر کے لیے آنکھ بھر کر دیکھنا اچھا نہیں اک طلسمی شہر ہے یہ زندگی پیچھے مڑ کر دیکھنا اچھا نہیں اپنے باہر دیکھ کر ہنس بول لیں

جانب در دیکھنا اچھا نہیں Read More »

سمندر پار آ بیٹھے مگر کیا

غزل سمندر پار آ بیٹھے مگر کیا نئے ملکوں میں بن جاتے ہیں گھر کیا نئے ملکوں میں لگتا ہے نیا سب زمیں کیا آسماں کیا اور شجر کیا ادھر کے لوگ کیا کیا سوچتے ہیں ادھر بستے ہیں خوابوں کے نگر کیا ہر اک رستے پہ چل کر سوچتے ہیں یہ رستہ جا رہا

سمندر پار آ بیٹھے مگر کیا Read More »

یاد یوں ہوش گنوا بیٹھی ہے

غزل یاد یوں ہوش گنوا بیٹھی ہے جسم سے جان جدا بیٹھی ہے راہ تکنا ہے عبث سو جاؤ دھوپ دیوار پہ آ بیٹھی ہے آشیانے کا خدا ہی حافظ گھات میں تیز ہوا بیٹھی ہے دست گلچیں سے مروت کیسی شاخ پھولوں کو گنوا بیٹھی ہے کیسے آئے کسی گلشن میں بہار دشت میں

یاد یوں ہوش گنوا بیٹھی ہے Read More »

جو گزرتا ہے گزر جائے جی

غزل جو گزرتا ہے گزر جائے جی آج وہ کر لیں کہ بھر جائے جی آج کی شب یہیں جینا مرنا جس کو جانا ہو وہ گھر جائے جی اس گلی سے نہیں جانا ہم کو آن رخصت ہو کہ سر جائے جی وقت نے کر دیا جو کرنا تھا کوئی مرتا ہے تو مر

جو گزرتا ہے گزر جائے جی Read More »