MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے

غزل

دست نازک سے جو پردے کو سنوارا تم نے
میں یہ سمجھا کہ نوازش سے پکارا تم نے

کیا حقیقت میں غم عشق سے مانوس ہوئے
یا یوں ہی پوچھ لیا حال ہمارا تم نے

میرے مکتوب محبت مجھے واپس دے کر
کر لی تو ہے یہ محبت بھی گوارا تم نے

نسبتاً آج حجابوں میں اضافہ کیسا
غالباً جان لیا دل کا اشارا تم نے

دور ماضی کے حسیں گیت سنا کر اکثر
اور بھی درد محبت کو نکھارا تم نے

رفتہ رفتہ نہ بھڑک جائے وہ شعلہ بن کر
رکھ دیا ہے جو مرے دل میں شرارہ تم نے

حیف صد حیف کہ دنیائے طرب میں کھو کر
کر لیا درد کے ماروں سے کنارا تم نے

اشک کہتے ہیں کہ پڑھ پڑھ کے جلیؔ کی غزلیں
دل میں محسوس کیا درد کا دھارا تم نے

جلی امرہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم