MOJ E SUKHAN

جانب در دیکھنا اچھا نہیں

غزل

جانب در دیکھنا اچھا نہیں
راہ شب بھر دیکھنا اچھا نہیں

عاشقی کی سوچنا تو ٹھیک ہے
عاشقی کر دیکھنا اچھا نہیں

اذن جلوہ ہے جھلک بھر کے لیے
آنکھ بھر کر دیکھنا اچھا نہیں

اک طلسمی شہر ہے یہ زندگی
پیچھے مڑ کر دیکھنا اچھا نہیں

اپنے باہر دیکھ کر ہنس بول لیں
اپنے اندر دیکھنا اچھا نہیں

پھر نئی ہجرت کوئی درپیش ہے
خواب میں گھر دیکھنا اچھا نہیں

سر بدن پر دیکھیے جاویدؔ جی
ہاتھ میں سر دیکھنا اچھا نہیں

عبد اللہ جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم