MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے

غزل سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے رکھ دیا ہم نے حساب ماہ و سال اس کے لیے اس کی خوشبو کے تعاقب میں نکلا آیا چمن جھک گئی سوئے زمیں لمحے کی ڈال اس کے لیے سرو تا خاک گیہ اپنی وفا کا سلسلہ سر کشیدہ اس کی خاطر […]

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے Read More »

ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی

غزل ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی چاند چلتا ہوا مہر سے جا ملا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی دل سے نکلا لبوں تک سوال آ گیا اپنے رہنے سے چل کر غزال آ گیا بند رخت صبا باب نافہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی اپنے

ایک پردہ ہٹا ایک چہرہ کھلا رات ڈھلنے لگی رت بدلنے لگی Read More »

ہجر اک حسن ہے اس حسن میں رہنا اچھا

غزل ہجر اک حسن ہے اس حسن میں رہنا اچھا چشم بے خواب کو خوں ناب کا گہنا اچھا کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کا چاند سر قرطاس لگا حرف برہنہ اچھا پار اترنے میں بھی اک صورت غرقابی ہے کشتئ خواب رہ موج پہ بہنا اچھا یوں نشیمن نہیں ہر روز اٹھائے جاتے

ہجر اک حسن ہے اس حسن میں رہنا اچھا Read More »

حرف اور خواب – شاعر کے الہامی جواہر تحریر منظر حسین اختر

حرف اور خواب – شاعر کے الہامی جواہر تحریر منظر حسین اختر شاعر بننے کا عمل محض الفاظ کو قرینے سے جوڑنے یا مصرعے کو وزن میں لانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روحانی و فکری سفر ہے — ایک الہامی جستجو جو شعور کی تہوں سے گزر کر لاشعور کی گہرائیوں میں جا

حرف اور خواب – شاعر کے الہامی جواہر تحریر منظر حسین اختر Read More »

وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیا

غزل وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیا زندگی الجھی ہوئی ہے بال سلجھائیں گے کیا خود ہی تم سوچو جو دنیا میں اسیر ذات ہیں وہ دکھوں کی بھیڑ میں آرام پہنچائیں گے کیا دور استبداد میں اے دل فغاں بے سود ہے گرمیٔ فریاد سے پتھر پگھل جائیں گے کیا سونے

وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیا Read More »

دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا

غزل دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا تو ہی تو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا قلب مضطر میں مرے مہر و وفا کی صورت نور کا ایک جہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا درد‌ کونین اٹھا رکھا تھا اللہ اللہ دل مرا کتنا جواں تھا مجھے معلوم نہ تھا تو

دونوں عالم سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا Read More »

دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھ

غزل دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھ تازہ ہو جاتے ہیں سب زخم ترے نام کے ساتھ اس نے ہر حلق تمنا پہ چلایا خنجر یوں ہے پیکار مری گردش ایام کے ساتھ درد الفت مرا کرتا ہے ترنم ریزی کرنیں رو رو کے گلے ملتی ہیں جب شام کے ساتھ سنگ بن

دل ہے وابستہ مرا حسرت ناکام کے ساتھ Read More »

اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھا

غزل اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھا کیا پس پردہ کہیں قرب تمہارا تو نہ تھا تم نے القاب بدل کر مجھے مکتوب لکھا اس تغیر میں کہیں تلخ اشارا تو نہ تھا لازمہ قطع مراسم سے یہ تفریق ہوئی ورنہ یہ عشق مجھے آپ سے پیارا تو نہ تھا بال کھولے

اتنا پرجوش میرے درد کا دھارا تو نہ تھا Read More »

بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیا

غزل بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیا دیکھو تو ان اہل ہوس نے کیسا قتل عام کیا ہم تو جہاں کے سلطانوں سے بہتر اس کو جانے ہیں جس نے روکھی سوکھی کھا کر گدڑی میں آرام کیا حرص و ہوا کے اس جنگل میں صرف وہی ہے مرد جری نفس کا

بستی بستی کوچہ کوچہ شہر کو لالہ فام کیا Read More »

وہم و گماں نے آس بندھائی تمام رات

غزل وہم و گماں نے آس بندھائی تمام رات آہٹ خرام ناز کی آئی تمام رات مجبور ہو کے میں نے محبت کی چھاؤں میں تاروں کو دل کی بات سنائی تمام رات مسرور ہو کے چاند نے اک چاند کے لیے کیا چاندنی زمیں پہ بچھائی تمام رات کھا کر ترس گدازیٔ سوز فراق

وہم و گماں نے آس بندھائی تمام رات Read More »