MOJ E SUKHAN

آئیں وہ لاکھ دیکھنے والوں کے سامنے

غزل

آئیں وہ لاکھ دیکھنے والوں کے سامنے
اٹھتی ہے آنکھ مہر جمالوں کے سامنے

ممکن نہیں جواب تری چشم مست کا
یہ فیصلہ ہوا ہے غزالوں کے سامنے

تنہا نہ ایک حضرت موسیٰ کو غش ہوا
ٹھہرا ہے کون برق جمالوں کے سامنے

ہو جائے حسن کو نہ کسی کی نظر کہیں
اچھے نہیں ہیں دیکھنے والوں کے سامنے

دنیا میں نیک و بد تو کوئی چیز ہی نہیں
ہونا ہے سب کو اپنے خیالوں کے سامنے

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم