حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ
غزل حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ جسے تم آئے دن کہتے ہو یہ ہے کوئی دیوانہ بھرم قائم ہے تیرے نام سے دونوں کا دنیا میں حقیقت میں ترا مسکن نہ کعبہ ہے نہ بت خانہ دل شیدا کی فطرت کو کوئی سمجھے تو کیا سمجھے یہ فرزانے کا فرزانہ یہ […]
حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ Read More »