MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ

غزل حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ جسے تم آئے دن کہتے ہو یہ ہے کوئی دیوانہ بھرم قائم ہے تیرے نام سے دونوں کا دنیا میں حقیقت میں ترا مسکن نہ کعبہ ہے نہ بت خانہ دل شیدا کی فطرت کو کوئی سمجھے تو کیا سمجھے یہ فرزانے کا فرزانہ یہ […]

حقیقت میں وہی اک شخص ہے دنیا میں فرزانہ Read More »

کن عجلتوں سے اپنی جوانی گزر گئی

غزل کن عجلتوں سے اپنی جوانی گزر گئی آندھی سی اک اٹھی ادھر آئی ادھر گئی دنیا کے حادثوں نے بگاڑے ہزار کام اتنا ہوا کہ اپنی طبیعت سنور گئی بے وجہ یہ سکون میسر نہیں مجھے تم آ گئے تو گردش دوراں ٹھہر گئی ہوتا ہے مصلحت کی بنا پر ہر انقلاب آئی سحر

کن عجلتوں سے اپنی جوانی گزر گئی Read More »

تری محفل سے جب اٹھ کر ترا دیوانہ آتا ہے

غزل تری محفل سے جب اٹھ کر ترا دیوانہ آتا ہے کبھی تعظیم کو کعبہ کبھی بت خانہ آتا ہے کیا کرتے ہیں فرزانے بھی اٹھ کر احترام اس کا تمہاری بزم میں جب بھی کوئی دیوانہ آتا ہے ہوس والے تری محفل میں کب تک بیٹھ سکتے ہیں وہ اٹھ جاتے ہیں سوئے شمع

تری محفل سے جب اٹھ کر ترا دیوانہ آتا ہے Read More »

ہے اضطراب دل میں تو دل اضطراب میں

غزل ہے اضطراب دل میں تو دل اضطراب میں ڈالا ہے تم نے مجھ کو عجب پیچ و تاب میں ڈھونڈیں گے ایک دن مجھے خود جلوہ ہائے حسن دیکھوں گا میں رہیں گے وہ کب تک حجاب میں اک حسن برق پاش کی دن رات ہے تلاش اپنی قضا کو ڈھونڈ رہا ہوں شباب

ہے اضطراب دل میں تو دل اضطراب میں Read More »

آئے بھی وہ تو شکل دکھا کر چلے گئے

غزل آئے بھی وہ تو شکل دکھا کر چلے گئے دل کی لگی کو اور بڑھا کر چلے گئے بیمار غم کے پاس وہ آ کر چلے گئے بگڑی ہوئی تھی بات بنا کر چلے گئے ہاں اے نگاہ شوق بتا تو کہاں رہی وہ گوشۂ نقاب اٹھا کر چلے گئے گو میکدے میں پی

آئے بھی وہ تو شکل دکھا کر چلے گئے Read More »

مجھے ساقی نے سمجھایا اشاروں ہی اشاروں میں

غزل مجھے ساقی نے سمجھایا اشاروں ہی اشاروں میں مرے حصے کی بانٹی جائے گی پرہیز گاروں میں جہاں تھے حسن و عشق و عقل و وحشت دل بھی جا پہنچا خدا کے فضل سے اب وہ بھی ہے پانچوں سواروں میں مری بے اختیاری میں بھی ربط و ضبط قائم ہے امڈ آتے ہیں

مجھے ساقی نے سمجھایا اشاروں ہی اشاروں میں Read More »

خدایا عشق میں اچھی یہ شرط امتحاں رکھ دی

غزل خدایا عشق میں اچھی یہ شرط امتحاں رکھ دی لگا کر مہر خاموشی مرے منہ میں زباں رکھ دی جو پوچھو دل سے شے تم نے کہاں اے مہرباں رکھ دی بڑی نخوت سے کہتے ہیں جہاں چاہی وہاں رکھ دی کسی کے جور بے حد پر بھی جب خاموش رہنا تھا تو پھر

خدایا عشق میں اچھی یہ شرط امتحاں رکھ دی Read More »

ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے

غزل ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے بلندی پر بھی وہی ہے جو کھائی سطح پہ ہے پھلانگ سکتا ہوں جتنا ہے دو دلوں کے بیچ مگر جو فاصلہ جغرافیائی سطح پہ ہے مجھے نہیں ہے ذرا رنج تہ نشینی کا مجھے خوشی ہے چلو میرا بھائی سطح پہ ہے ہم ایسے دیکھنے والوں

ترا غرور عبث انتہائی سطح پہ ہے Read More »

پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا

غزل پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا سب کے کرداروں تلک کیچڑ گیا کیا ہوا جو اوک بھر لی جھیل سے کیا ہوا جو ایک پتا جھڑ گیا دل میں آپ آئے تو نکلے کتنے لوگ چیونٹیوں کے بل میں پانی پڑ گیا کس نے چومی ہے مری مفلس جبیں کون اتنے مہنگے موتی

پاؤں بے دھیانی میں ایسا پڑ گیا Read More »

اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے

غزل اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے کشتی نے اپنے اندر دریا اٹھا لیا ہے اس نیم وصل سے یہ ترک تعلق اچھا چاندی کو رکھ کے میں نے سونا اٹھا لیا ہے اک تو پگار جیسے بچوں کی جیب خرچی اوپر سے دوستوں کا خرچہ اٹھا لیا ہے خوشبو کے عاشقوں

اتنی سی آنکھ نے غم کتنا اٹھا لیا ہے Read More »