MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے

غزل نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے یوں ہی خشک پات جڑے رہے تری ڈال سے کوئی لمس تھا جو سراپا آنکھ بنا رہا کوئی پھول جھانکتا رہ گیا کسی شال سے تری کائنات سے کچھ زیادہ طلب نہیں فقط ایک موتی ہی موتیوں بھرے تھال سے تو وہ ساحرہ کہ طلسم […]

نہ گرے کہیں نہ ہرے ہوئے کئی سال سے Read More »

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک

غزل کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک آخری بار تیسری دستک پٹریوں میں پھنسا ہوا پاؤں اور گاڑی کی آ پڑی دستک تم نے چھپنے ہی کب دیا مجھ کو تم نے گنتی نہیں گنی دس تک سچ میں آنے پہ ہو تم آمادہ دی گئی ہے کہ ہو گئی دستک گول کی گول ہی

کتنی دفعہ نہ جانے دی دستک Read More »

لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو

غزل لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو سجی سجائی ہوئی جیسے کوئی دلہن ہو یہ قحط شعر پڑا ہو نہ قحط غم کے سبب چراغ اتنا ہی جلتا ہے جتنا ایندھن ہو یہ میں ہی ہوں جو اداسی نکالتا ہوں تری ہر اک فصیل میں لازم نہیں کہ روزن ہو تو اپنے خواب

لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو Read More »

کیا اذیت ہے مرد ہونے کی

غزل کیا اذیت ہے مرد ہونے کی کوئی بھی جا نہیں ہے رونے کی دائرہ قید کی علامت ہے چاہے انگوٹھی پہنو سونے کی سانس پھونکی گئی بڑا احسان چابی بھر دی گئی کھلونے کی ایسی سردی میں شرط چادر ہے اوڑھنے کی ہو یا بچھونے کی بوجھ جیسا تھا جس کا تھا مجھے کیا

کیا اذیت ہے مرد ہونے کی Read More »

پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے

غزل پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے عجب تھکن ہے جو کام کرنے سے قبل طاری حواس پر ہے سفید رت میں گلاب ہاتھوں سے سات رنگوں کے خواب چنتی کپاس چننے کو آئی لڑکی کا دھیان تھوڑی کپاس پر ہے سمندروں کے مسافرو کچھ اضافی پانی بھی ساتھ

پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے Read More »

تمہارے گھر پہ میں آ تو نہیں رہا مرے دوست

غزل تمہارے گھر پہ میں آ تو نہیں رہا مرے دوست گھما پھرا کے بتاؤ نہ راستہ مرے دوست ہوا ہو گرم کہ ٹھنڈی پسینہ سوکھتا ہے وہ میرا دوست ہے اچھا ہے یا برا مرے دوست بچھڑتے وقت ضرورت نہیں ہوئی محسوس اور اب نہ رابطہ نمبر نہ رابطہ مرے دوست میں یوں تو

تمہارے گھر پہ میں آ تو نہیں رہا مرے دوست Read More »

اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی

غزل اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی ورثے کا کھیت بیچ کے کوٹھی خرید لی اک عمر اپنے بیٹوں کو انگلی تھمائی پھر بوڑھے نے اک دکان سے لاٹھی خرید لی ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس آئی تھی تیرے گاؤں سے مہنگی خرید لی ہم دوستوں کے پیار

اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی Read More »

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے

غزل تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے ترا جلوہ تیرا ہے پردہ در تیرے رخ پہ کیوں یہ نقاب ہے تجھے حسن مایۂ ناز ہے دل خستہ محو نیاز ہے کہوں کیا یہ قصۂ راز ہے مرا عشق خانہ خراب ہے یہ رسالہ عشق کا ہے ادق ترے

تجھے خلق کہتی ہے خود نما تجھے ہم سے کیوں یہ حجاب ہے Read More »

جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثبات

غزل جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثبات اے سالک مجذوب یہ ہے سیر مقامات تجدید مثالی میں ہے تفرید‌ مجرد توحید ہے یہ اور ہیں بے صرفہ خیالات بے رنگ میں نیرنگ ہے وحدت میں ہے کثرت اعداد ہوں افراد جو ہو ترک اضافات خلوت میں ہوا جلوہ سفر میں بھی وطن

جذبہ میں سلوک اور نفی میں ہے جو اثبات Read More »

یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئے

غزل یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئے ہوا ہے گو اشتیاق بے حد جما کے پائے نظر کو چلئے ہوئے ہیں محروم دید بے دل کیا تجاہل کا اس نے بسمل وہ دل ربا بن گیا ہے قاتل کمر کو کس کے سفر کو چلئے غرض تھی اظہار

یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئے Read More »