غزل
پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پن
مجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پن
دل کے رنگ محل میں جیسے برسوں کوئی نہ جھانکا ہو
تصویروں کی بے نور آنکھیں شیشہ شیشہ دھندلا پن
کتنی بار لہو رویا ہے کتنی بار جلے ہیں چراغ
کتنے غموں کی آنچ میں نکھرا درد کا میٹھا میٹھا پن
ہم ٹھہرے درویش جنم سے پیار کیا تو آ بیٹھے
ہم سے کیا یہ تیکھی نظریں ہم سے کیا بیگانہ پن
انجانے لوگوں تک پہنچا ذکر تمہاری چاہت کا
گلی گلی مشہور ہوا ہے ماہرؔ کا دیوانہ پن
کیلاش ماہر