ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا
غزل ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا کتنا مشکل ہے چشم تر رکھنا پہلی صف میں کھڑے ہوئے لوگو آخری شخص پر نظر رکھنا یار دیوار کا تقاضا ہے کچھ بھی ہو جائے اس میں در رکھنا مجھ کو امکان نے سکھا ڈالا ایک تازہ خراش کر رکھنا اپنے پہلو میں تم بھی مصرع میرؔ […]
ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا Read More »