MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا

غزل ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا کتنا مشکل ہے چشم تر رکھنا پہلی صف میں کھڑے ہوئے لوگو آخری شخص پر نظر رکھنا یار دیوار کا تقاضا ہے کچھ بھی ہو جائے اس میں در رکھنا مجھ کو امکان نے سکھا ڈالا ایک تازہ خراش کر رکھنا اپنے پہلو میں تم بھی مصرع میرؔ […]

ایک دریا چھپا کے گھر رکھنا Read More »

بھول جانے کا ہنر تو مجھے آتا ہی نہیں

غزل بھول جانے کا ہنر تو مجھے آتا ہی نہیں اس لیے دور تلک ہجر سے ناطہ ہی نہیں ایسے دالان کشا کے در و دیوار پہ خاک جو ترے جسم کی خوشبو میں نہاتا ہی نہیں یوں میسر ہے ہمیں ان کی جبین روشن رات ہونے پہ کوئی دیپ جلاتا ہی نہیں اک عجب

بھول جانے کا ہنر تو مجھے آتا ہی نہیں Read More »

چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیں

غزل چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیں بہ فیض عشق سمجھدار ہو گئیں آنکھیں تمہارا عکس اتارا ہے مدتوں ان میں عجب نہیں ہے جو تہہ دار ہو گئیں آنکھیں یہ سوتے جاگتے جو خواب دیکھنے لگی ہیں جناب عشق سے دو چار ہو گئیں آنکھیں یہ جان لیتی ہیں سب حالتیں ترے

چراغ و طاق میں بیدار ہو گئیں آنکھیں Read More »

حسن جانان معتبر اس کو

غزل حسن جانان معتبر اس کو لگ نہ جائے کہیں نظر اس کو اشک پلکوں پہ خشک کرتا ہوں بھیج کر خواب مختصر اس کو آئنے تک نے لی ہے انگڑائی روبرو اپنے دیکھ کر اس کو پوچھیے مجھ سے معنی وحشت میں نے دیکھا ہے ننگے سر اس کو اس کے ہونے سے دل

حسن جانان معتبر اس کو Read More »

دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغ

غزل دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغ دیکھنا چاہتے ہیں ہم تری راتوں کے چراغ عام سی شب کو شب خاص بنا دیتے ہیں اک تری یاد میں جلتی ہوئی آنکھوں کے چراغ شہر یاراں میں کہیں کوئی شناسا ہی نہیں نہ وہ برگد نہ قبیلہ نہ رواجوں کے چراغ آج

دھیان میں لاتے ہیں یوں بھی تری باتوں کے چراغ Read More »

یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میں

غزل یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میں گفتگو بہت کی ہے آپ سے خیالوں میں آپ کے حوالے سے مجھ کو یاد پڑتا ہے میں کہاں کہاں پہ تھا آپ کے حوالوں میں آپ گر چلے آؤ تو سبھی کو دکھلاؤں ہو بھلا بیاں کیسے زندگی مثالوں میں خواب کے جزیروں

یہ جو دکھ رہا ہوں میں اس قدر اجالوں میں Read More »

ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا

غزل ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا میرا سایہ مرے پیکر سے بڑا ہو گویا تیرے لہجے میں تو تھی ہی تری تلوار کی کاٹ تیری یادوں میں بھی اب زہر ملا ہو گویا پچھلے موسم میں سبھی گریہ کناں تھے مگر اب چشم خوں رنگ میں سیلاب رکا ہو گویا چاند نکلا

ہر نئی شام یہ احساس ہوا ہو گویا Read More »

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے

غزل زخم اپنا سا کام کر نہ جائے پھر درد کی لے بکھر نہ جائے جب اس کی نگاہ اس طرف ہے کیوں میری نظر ادھر نہ جائے ہے فصل جنوں کی آمد آمد پیڑوں کا لباس اتر نہ جائے اب مجھ سے نہ مل کہ زہر میرا نس نس میں ترے اتر نہ جائے

زخم اپنا سا کام کر نہ جائے Read More »

سکوت شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے

غزل سکوت شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے بجھے چراغ تو پھر جسم و جاں جلانے دے دکھوں کے خواب نما نیم وا دریچوں میں وفور‌ کرب سے تاروں کو جھلملانے دے جلانا چاہے اگر چاہتوں کا سورج بھی بدن کے شہر کو اس دھوپ میں جلانے دے تو اپنے سنگ نما روح کے سفینے

سکوت شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے Read More »

ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے

غزل ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے برسے گا کل لہو بھی ترے آسمان سے یہ کس کے دل کی آگ سے جلتے ہیں بام و در شعلے سے اٹھ رہے ہیں بدن کے مکان سے سورج کی تیز دھوپ سے شاید اماں ملے رکتی ہے غم کی دھوپ کہیں سائبان سے

ٹوٹا ہے آج ابر جو اس آن بان سے Read More »