MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پوچھے جو نشاں کوئی انجان نکلتے ہیں

غزل پوچھے جو نشاں کوئی انجان نکلتے ہیں ہم راہ گزاروں سے بے دھیان نکلتے ہیں دل تازہ مراسم کے آغاز سے ڈرتا ہے ملنے سے بچھڑنے کے امکان نکلتے ہیں کس سمت کو جاتے ہیں اے راہ چمن آخر لشکر گل و نکہت کے ہر آن نکلتے ہیں گھر رہیے کہ باہر ہے اک […]

پوچھے جو نشاں کوئی انجان نکلتے ہیں Read More »

ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے

غزل ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے تھوڑی سی محبت ہے زیادہ تو نہیں ہے اسلوب نظر سے مرا مفہوم نہ سمجھے وہ یار مرا اتنا بھی سادہ تو نہیں ہے آغاز جو کی میں نے نئی ایک محبت یہ پچھلی محبت کا اعادہ تو نہیں ہے سینے میں بجھا جاتا

ان آنکھوں کا مجھ سے کوئی وعدہ تو نہیں ہے Read More »

گئے دنوں کا حوالہ تھا کام کیا دیتا

غزل گئے دنوں کا حوالہ تھا کام کیا دیتا گزر گیا وہ جواب سلام کیا دیتا دیار شب سے بھی آگے مرا سفر تھا بہت سو میرا ساتھ وہ ماہ تمام کیا دیتا میں اس خرابۂ دل کے اجاڑ منظر میں کسی کو دعوت سیر و قیام کیا دیتا جو تو نہ آتا تو رنگ

گئے دنوں کا حوالہ تھا کام کیا دیتا Read More »

دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے

غزل دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے ہرا بھرا مرے سینے میں کوئی باغ تو ہے نہیں ہے وصل مگر خواب وصل بھی ہے بہت ذرا سی دیر غم ہجر سے فراغ تو ہے بہت اجاڑے سہی عمر کی سرائے مگر شکستہ طاق میں اک یاد کا چراغ تو ہے

دکھوں کے پھول تو ہیں زخم تو ہے داغ تو ہے Read More »

محبتوں کا چمن پائمال ہم نے کیا

غزل محبتوں کا چمن پائمال ہم نے کیا خود اپنے آپ کا جینا محال ہم نے کیا جو لذتیں ہیں دکھوں میں مسرتوں میں کہاں ملا عروج تو اس کو زوال ہم نے کیا نہ کار دل کے تھے لائق نہ کار دنیا کے جو کچھ کیا تو غم ماہ و سال ہم نے کیا

محبتوں کا چمن پائمال ہم نے کیا Read More »

مژہ پہ اشک الم جھلملائے آخر شب

غزل مژہ پہ اشک الم جھلملائے آخر شب بچھڑنے والے بہت یاد آئے آخر شب وہ جن کے قرب سے ڈھارس تھی میرے دل کو بہت کوئی کہیں سے انہیں ڈھونڈ لائے آخر شب یہ شور باد زمستاں یہ راستہ سنسان ڈرا رہے ہے درختوں کے سائے آخر شب ہوا میں درد کی شدت سے

مژہ پہ اشک الم جھلملائے آخر شب Read More »

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا

غزل شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا اور پھر ایک ہی چہرہ تھا کہ ہر سو چمکا اے چراغ نگۂ یار میں جاں سے گزرا اب مجھے کیا جو پئے دل زدگاں تو چمکا روز ملتے تھے تو بے رنگ تھا تیرا ملنا دور رہنے سے ترے قرب کا جادو چمکا دل

شام بے مہر میں اک یاد کا جگنو چمکا Read More »

آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی

غزل آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی یاد اس کی مجھے تنہا نہیں رہنے دیتی لذت در بدری میں بڑی وسعت ہے کہ یہ در و دیوار کا جھگڑا نہیں رہنے دیتی گھر ہو یا رونق بازار کہیں بھی جاؤں بے قراری تو کسی جا نہیں رہنے دیتی بند کر لوں تو عجب

آنکھ سے خواب کا رشتہ نہیں رہنے دیتی Read More »

ہم نے دل اس کے تئیں نذر گزارا اپنا

غزل ہم نے دل اس کے تئیں نذر گزارا اپنا اس نے سمجھا نہ سر بزم اشارا اپنا کیا پکاروں کہ صدا بھی نہ وہاں جائے گی جانے کس دیس گیا یار وہ پیارا اپنا لے گیا دور اسے خواب عدم کا افسوں نیند سے پھر نہ اٹھا انجمن آرا اپنا عمر کے ساتھ جدا

ہم نے دل اس کے تئیں نذر گزارا اپنا Read More »

اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں

غزل اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں میں اپنے آپ سے ملنے کی آرزو میں ہوں مری سرشت میں رنگ بہار ہے لیکن بہت دنوں سے کسی باغ بے نمو میں ہوں تو مجھ کو بھول گیا ہے مگر مرے مطرب میں درد بن کے ترے نغمۂ‌‌ گلو میں ہوں خزاں رسیدہ کسی

اسیر بزم ہوں خلوت کی جستجو میں ہوں Read More »