MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

نہ بت کدے میں نہ کعبے میں سر جھکانے سے

غزل نہ بت کدے میں نہ کعبے میں سر جھکانے سے سکوں ملا ہے تری انجمن میں آنے سے مرے جنوں کو محبت سے دیکھنے والے ذرا نگاہ بچائے ہوئے زمانے سے میں مسکرا تو دیا ان کی بے نیازی پر یہ کیا کہ دل پہ لگی چوٹ مسکرانے سے بہت کیا ہے حقیقت کی […]

نہ بت کدے میں نہ کعبے میں سر جھکانے سے Read More »

پہنچ کے ہم سر منزل جنہیں بھلا نہ سکے

غزل پہنچ کے ہم سر منزل جنہیں بھلا نہ سکے وہ ہم سفر تھے جو کچھ دور ساتھ آ نہ سکے تمام عمر پشیمانیوں میں بیت گئی بقدر شوق محبت کے ناز اٹھا نہ سکے مجھے خیال ہے ان دل گرفتہ کلیوں کا جنہیں نسیم سحر چھیڑ دے کھلا نہ سکے کچھ ایسے درد بھی

پہنچ کے ہم سر منزل جنہیں بھلا نہ سکے Read More »

کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے

غزل کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے اے مرے بے قرار دل کس لیے بے قرار ہے سن تو رہے ہیں دیر سے شور بہت بہار کا جانے کہاں کھلے ہیں پھول جانے کہاں بہار ہے کیوں نہ ترے خیال میں زمزمہ خواں گزر چلیں یوں بھی ہماری راہ میں گردش

کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے Read More »

تم ہو شاعر مری جان جیتے رہو

غزل تم ہو شاعر مری جان جیتے رہو شعر کہتے رہو زہر پیتے رہو سینۂ چاک ہی مشعل نور ہے سینہ چاکو اسی طرح جیتے رہو رات جاگی ہوئی ہے ہوا مہرباں پھر یہ لمحے کہاں، آج پیتے رہو روک لو دل پہ سیل گران الم دوستو زندگی کے چہیتے رہو اتنی فرصت کسے ہے

تم ہو شاعر مری جان جیتے رہو Read More »

غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج

غزل غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج کھلی فضا میں کہیں دور جا کے رو لیں آج دیار غیر میں اب دور تک ہے تنہائی یہ اجنبی در و دیوار کچھ تو بولیں آج تمام عمر کی بیداریاں بھی سہہ لیں گے ملی ہے چھاؤں تو بس ایک نیند سو لیں

غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج Read More »

کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی

غزل کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی کھلتی ہی نہیں اب دل کی کلی مرا چین گیا مری نیند گئی میں لاکھ رہوں یوں ہی خاک بسر شاداب رہیں ترے شام و سحر نہیں اس کا مجھے شکوہ بھی کوئی مرا چین گیا مری نیند گئی میں کب سے

کیا ہو گیا کیسی رت پلٹی مرا چین گیا مری نیند گئی Read More »

یہ کہاں سے موج طرب اٹھی کہ ملال دل سے نکل گئے

غزل یہ کہاں سے موج طرب اٹھی کہ ملال دل سے نکل گئے وہی صبح و شام جو تھے گراں نفس بہار میں ڈھل گئے یہ دیار شوق ہے ہم نشیں یہاں لغزشوں میں بھی حسن ہے جو مٹے وہ اور ابھر گئے جو گرے وہ اور سنبھل گئے حسیں زندگی کی تلاش تھی ہمیں

یہ کہاں سے موج طرب اٹھی کہ ملال دل سے نکل گئے Read More »

ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا

غزل ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا بار سہہ نہیں سکتیں دیر تک تلاطم کا جانے کتنی فریادیں ڈھل رہی ہیں نغموں میں چھڑ رہی ہے دکھ کی بات نام ہے ترنم کا کتنے بے کراں دریا پار کر لیے ہم نے موج موج میں جن کی زور تھا تلاطم کا اے خیال کی

ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا Read More »

دیکھتے جاتے ہیں نمناک ہوئے جاتے ہیں

غزل دیکھتے جاتے ہیں نمناک ہوئے جاتے ہیں کیا گلستاں خس و خاشاک ہوئے جاتے ہیں ایک اک کر کے وہ غم خوار ستارے میرے غم سر وسعت افلاک ہوئے جاتے ہیں خوش نہیں آیا خزاں کو مرا عریاں ہونا زرد پتے مری پوشاک ہوئے جاتے ہیں دیکھ کر قریۂ ویراں میں زمستاں کا چاند

دیکھتے جاتے ہیں نمناک ہوئے جاتے ہیں Read More »

کھیل تھا اپنی انا کا عشق اسے سمجھا کیا

غزل کھیل تھا اپنی انا کا عشق اسے سمجھا کیا میں نے اپنے آپ سے کتنا بڑا دھوکا کیا عمر بھر کا ہم نفس اک پل میں رخصت ہو گیا اور میں خاموش اسے جاتے ہوئے دیکھا کیا اک ذرا سی بات پر روٹھا رہا وہ دیر تک مسکرا کے خود ہی پھر میری طرف

کھیل تھا اپنی انا کا عشق اسے سمجھا کیا Read More »