MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

محبتوں کا چمن پائمال ہم نے کیا

غزل

محبتوں کا چمن پائمال ہم نے کیا
خود اپنے آپ کا جینا محال ہم نے کیا

جو لذتیں ہیں دکھوں میں مسرتوں میں کہاں
ملا عروج تو اس کو زوال ہم نے کیا

نہ کار دل کے تھے لائق نہ کار دنیا کے
جو کچھ کیا تو غم ماہ و سال ہم نے کیا

ہزار درد کے موسم گزر گئے لیکن
کبھی دراز نہ دست سوال ہم نے کیا

یہ رمز عشق یہ نازک کنائے ہم نے سکھائے
نگاہ ناز تجھے بے مثال ہم نے کیا

دیے تراش لیے یاس کے اندھیروں سے
غم فراق کو خواب وصال ہم نے کیا

سخن سے رنگ گیا زندگی سے خواب گئے
یہ زخم ہجر کا کیوں اندمال ہم نے کیا

ہوئی ہے آج طبیعت سخن پہ پھر مائل
سو موج درد کو دل میں بحال ہم نے کیا

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم