MOJ E SUKHAN

وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں

غزل

وہ دن جو بیت گیا پھر کسی نے پایا نہیں
کبھی کماں سے کوئی تیر جا کے آیا نہیں

ٹھہر گیا ہے سر مرکز فلک سورج
یہ وقت وہ ہے کہ دیوار میں بھی سایا نہیں

یہ بے دلیٔ مسلسل یہ رنج نا معلوم
تجھے بھلا کے بھی ہم نے تجھے بھلایا نہیں

اسیر بزم اس آوارگی کو کم نہ سمجھ
جو اپنے ساتھ گزارا وہ دن گنوایا نہیں

بچھڑنے سے بھی سوا ہے یہ غم کہ شام فراق
کوئی ستارہ ان آنکھوں میں جھلملایا نہیں

بس اپنا نام وہ کاغذ پہ لکھ کے چھوڑ گیا
میں سو رہا تھا تو اس نے مجھے جگایا نہیں

میں اپنے عہد کی تکمیل تجھ سے کیا کرتا
کہ میں نے خود سے بھی وعدہ کوئی نبھایا نہیں

فراستؔ ایک تو کم ہمتی مجھی میں تھی
پھر اس نظر نے بھی کچھ حوصلہ بڑھایا نہیں

سید فراست رضوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم