MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہی ساغر وہی صہبا وہی مے خوار ہیں ساقی

غزل وہی ساغر وہی صہبا وہی مے خوار ہیں ساقی نظام نو کے کیا سچ مچ یہی آثار ہیں ساقی خلوص دل ہے یا کچھ بے اثر اشعار ہیں ساقی کریں کیا نذر تیری مفلس و نادار ہیں ساقی نگاہ ناز کی مستی سے جو سرشار ہیں ساقی وہ دیوانے حقیقت میں بہت ہشیار ہیں […]

وہی ساغر وہی صہبا وہی مے خوار ہیں ساقی Read More »

تجلی طور کی ہر سو عیاں ہے

غزل تجلی طور کی ہر سو عیاں ہے مگر ذوق کلیمانہ کہاں ہے یہی ہے رہبری اے رہنماؤ نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے لہو روتا ہے جو اوروں کی خاطر حقیقت میں وہی دل شادماں ہے عجب شے ہے رباب زندگی بھی کبھی نغمہ کبھی آہ و فغاں ہے اگر وقف محبت

تجلی طور کی ہر سو عیاں ہے Read More »

نغمۂ مینا ہے رقص جام ہے

غزل نغمۂ مینا ہے رقص جام ہے تو کہاں اے گردش ایام ہے ہو نہ جائے حسن پر جب تک نثار زندگی الزام ہی الزام ہے اٹھ گئے سب مے کشان سرفروش مے کدوں میں اب خدا کا نام ہے پھیر لیں جس سے نگاہیں آپ نے اس کی قسمت میں کہاں آرام ہے تم

نغمۂ مینا ہے رقص جام ہے Read More »

حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر

غزل حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر نغمۂ غم جب بھی چھیڑا ہم نے دل کے ساز پر خار زار زندگی کو بھی بنا دیتا ہے خلد کیوں نہ ہم ایمان لائیں عشق کے اعجاز پر تیری اپنی ذات میں مضمر ہے حسن لم یزل کس لئے سجدے پہ سجدہ جلوہ گاہ ناز

حسن کیا کیا مسکرایا عشق کے انداز پر Read More »

مے بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی بھی پیمانہ بھی ہے

غزل مے بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی بھی پیمانہ بھی ہے دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں ذوق رندانہ بھی ہے رقص پروانہ بھی دیکھ اے چشم عبرت یہ بھی دیکھ شمع کی آغوش میں کچھ خاک پروانہ بھی ہے ہم نے مانا ہے سکوں دامان ساحل میں مگر فطرت اہل جنوں طوفاں سے

مے بھی ہے ساغر بھی ہے ساقی بھی پیمانہ بھی ہے Read More »

ترے جلووں کا وہ عالم نہیں ہے

غزل ترے جلووں کا وہ عالم نہیں ہے شعور دید ورنہ کم نہیں ہے نظام زندگی ہے منتشر سا مزاج یار تو برہم نہیں ہے کبھی لذت کش راحت نہ ہوں گے میسر جن کو تیرا غم نہیں ہے دیا ہے غم زمانے بھر کا مجھ کو عنایت یہ بھی تیری کم نہیں ہے ہمیں

ترے جلووں کا وہ عالم نہیں ہے Read More »

تمہیں پھیر لو گے جو ہم سے نگاہیں

غزل تمہیں پھیر لو گے جو ہم سے نگاہیں ملیں گی کہاں غم زدوں کو پناہیں بشر ناپتا ہے ستاروں کی راہیں اسے لے نہ ڈوبیں یہ پرواز گاہیں تلاطم سے کب ڈوبتے ہیں سفینے اگر ڈوبتے دل ڈبونا نہ چاہیں ٹھہرتی ہیں گل پر نہ شمس و قمر پر نہ جانے کسے ڈھونڈھتی ہیں

تمہیں پھیر لو گے جو ہم سے نگاہیں Read More »

کچھ غم کا غم ہوا نہ خوشی کی خوشی ہوئی

غزل کچھ غم کا غم ہوا نہ خوشی کی خوشی ہوئی کس راحت و سکوں سے بسر زندگی ہوئی اس بے نوا گدا کو شہنشاہ جانیے جس کو نصیب دولت دیوانگی ہوئی کیسے شب فراق کٹی کچھ نہ پوچھئے اک داستاں ہے رنج و الم سے بھری ہوئی سجدے کو سر جھکا دیا اپنے ہی

کچھ غم کا غم ہوا نہ خوشی کی خوشی ہوئی Read More »

تڑپ میں بھی مزہ آنے لگا ہے غم کے ماروں کو

غزل تڑپ میں بھی مزہ آنے لگا ہے غم کے ماروں کو خیال سر خوشی بہکا نہ دے ان سوگواروں کو گلستاں جو بنانا چاہتے تھے خارزاروں کو انہیں کی شوخ گامی روندتی ہے لالہ زاروں کو سعادت چاہتا تھا کل فلک بھی جن کے سجدوں کی بگولے ڈھونڈتے پھرتے ہیں آج ان کے غباروں

تڑپ میں بھی مزہ آنے لگا ہے غم کے ماروں کو Read More »

شمع کی نظروں میں سودائی ہے پروانہ ابھی

غزل شمع کی نظروں میں سودائی ہے پروانہ ابھی سوز و ساز عشق سے ہے حسن بیگانہ ابھی آستان ناز سے دنیا ہے بیگانہ ابھی کوئی کعبہ ڈھونڈتا ہے کوئی بت خانہ ابھی کچھ بگولوں اور کچھ ذروں میں ہیں سرگوشیاں دشت سے گزرا ہے شاید کوئی دیوانہ ابھی اس نے جذب عشق کی تاثیر

شمع کی نظروں میں سودائی ہے پروانہ ابھی Read More »