MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

نغمۂ مینا ہے رقص جام ہے

غزل

نغمۂ مینا ہے رقص جام ہے
تو کہاں اے گردش ایام ہے

ہو نہ جائے حسن پر جب تک نثار
زندگی الزام ہی الزام ہے

اٹھ گئے سب مے کشان سرفروش
مے کدوں میں اب خدا کا نام ہے

پھیر لیں جس سے نگاہیں آپ نے
اس کی قسمت میں کہاں آرام ہے

تم ہی نامحرم ہو ورنہ مے کشو
زندگی خود اک چھلکتا جام ہے

آدمی کو مارتی ہے زندگی
موت پر تو مفت کا الزام ہے

تیرے بس کا روگ اے صابرؔ نہیں
شاعری تو دل جلوں کا کام ہے

صابر ابوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم