عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں
غزل عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں آسماں بانی بھی ہے اب حلقۂ امکان میں عقل و دل کا سامنا تھا دیدۂ حیران میں میں کھڑا ساحل پہ تھا وہ حلقۂ؎ طوفان میں خلد سے دنیا میں آتے دم کہاں معلوم تھا رنج و غم سو باندھ رکھے ہیں مرے سامان میں […]
عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں Read More »