MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں

غزل عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں آسماں بانی بھی ہے اب حلقۂ امکان میں عقل و دل کا سامنا تھا دیدۂ حیران میں میں کھڑا ساحل پہ تھا وہ حلقۂ؎ طوفان میں خلد سے دنیا میں آتے دم کہاں معلوم تھا رنج و غم سو باندھ رکھے ہیں مرے سامان میں […]

عقل داخل ہو گئی ہے وہم کے میدان میں Read More »

کل تک جو دل غرور جلال و جمال تھا

غزل کل تک جو دل غرور جلال و جمال تھا آج ان کے راستے میں پڑا پائمال تھا زنجیر تھی کہیں نہ کہیں کوئی جال تھا لیکن تری فضا سے نکلنا محال تھا تھا تیر ان کے پاس وہی ایک بے نظیر اور زخم جو لگا وہ بھی اپنی مثال تھا اس نے بھلا کہا

کل تک جو دل غرور جلال و جمال تھا Read More »

بت کیا ہیں بشر کیا ہے یہ سب سلسلہ کیا ہے

غزل بت کیا ہیں بشر کیا ہے یہ سب سلسلہ کیا ہے پھر میں ہوں مرا دل ہے مری غار حرا ہے جو آنکھوں کے آگے ہے یقیں ہے کہ گماں ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے خلا ہے کہ خدا ہے تارے مری قسمت ہیں کہ جلتے ہوئے پتھر دنیا مری جنت ہے کہ

بت کیا ہیں بشر کیا ہے یہ سب سلسلہ کیا ہے Read More »

کیوں جیب میں ملا مری تقدیر لیے ہے

غزل کیوں جیب میں ملا مری تقدیر لیے ہے کیوں راہ کا ہر موڑ کوئی پیر لیے ہے کرتا ہے شب و روز جو سرکار کی تعریف یہ شخص بھی شاید کوئی جاگیر لیے ہے سر ایک بھی میں نے یہاں اونچا نہیں دیکھا پاگل ہے جو اب ہاتھ میں شمشیر لیے ہے ہر پیڑ

کیوں جیب میں ملا مری تقدیر لیے ہے Read More »

پھینکے ہوئے بے کار کھلونے کی طرح ہوں

غزل پھینکے ہوئے بے کار کھلونے کی طرح ہوں میں باغ کے اجڑے ہوئے گوشے کی طرح ہوں تو دل میں اترتی ہوئی خوشبو کی طرح ہے میں جسم سے اترے ہوئے کپڑے کی طرح ہوں کچھ اور بھی دن مجھ کو سمجھنے میں لگیں گے میں خواب میں دیکھے ہوئے رستے کی طرح ہوں

پھینکے ہوئے بے کار کھلونے کی طرح ہوں Read More »

عمر بھر خون سے لکھا ہے جس افسانے کو

غزل عمر بھر خون سے لکھا ہے جس افسانے کو کتنا کم رنگ ہے اس شوخ کے نذرانے کو کھلتی رہتی ہیں ترے پیار کی کلیاں ہر سو باغ نیلام نہ کر دیں مرے ویرانے کو مے سے رغبت تو مجھے بھی ہے مگر بس اتنی ناچتے دیکھ لیا دور سے پیمانے کو اور مرتا

عمر بھر خون سے لکھا ہے جس افسانے کو Read More »

صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں

غزل صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں ورنہ چاہنے والے سر اٹھا کے چلتے ہیں کیا گنہ ہوا ان سے کیوں تری گلی کے لوگ اپنے گھر کے اندر بھی منہ چھپا کے چلتے ہیں ہاں خدا بھی ہو شاید کوئی اپنی بستی کا حکم اس جگہ سارے ناخدا کے چلتے

صرف ان کے کوچے میں جاں بچھا کے چلتے ہیں Read More »

یہ صدمہ اس کو پاگل کر گیا تھا

غزل یہ صدمہ اس کو پاگل کر گیا تھا وہ اپنے آئنے سے ڈر گیا تھا کوئی بھی سر نہیں تھا اس کے قابل عبث اس شہر میں پتھر گیا تھا جہالت کے حوالے پڑھتے پڑھتے کتابوں سے مرا جی بھر گیا تھا پلاتا کون اس پیاسے کو پانی کوئی مسجد کوئی مندر گیا تھا

یہ صدمہ اس کو پاگل کر گیا تھا Read More »

یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے

غزل یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے گلوں نے کس لیے بوسے تری قبا کے لیے وہاں زمین پر ان کا قدم نہیں پڑتا یہاں ترستے ہیں ہم لوگ نقش پا کے لیے تم اپنی زلف بکھیرو کہ آسماں کو بھی بہانہ چاہئے محشر کے التوا کے لیے یہ کس

یہ حادثہ بھی تو کچھ کم نہ تھا صبا کے لیے Read More »

کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں

غزل کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں وہ بھی باقی نہیں اس دور کے انسانوں میں وقت کا سیل بہا لے گیا سب کچھ ورنہ پیار کے ڈھیر لگے تھے مرے گل دانوں میں شاخ سے کٹنے کا غم ان کو بہت تھا لیکن پھول مجبور تھے ہنستے رہے گل دانوں میں ان

کچھ حقیقت تو ہوا کرتی تھی انسانوں میں Read More »