MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہی ساغر وہی صہبا وہی مے خوار ہیں ساقی

غزل

وہی ساغر وہی صہبا وہی مے خوار ہیں ساقی
نظام نو کے کیا سچ مچ یہی آثار ہیں ساقی

خلوص دل ہے یا کچھ بے اثر اشعار ہیں ساقی
کریں کیا نذر تیری مفلس و نادار ہیں ساقی

نگاہ ناز کی مستی سے جو سرشار ہیں ساقی
وہ دیوانے حقیقت میں بہت ہشیار ہیں ساقی

پلا وہ جام جس سے مشکلیں آسان ہو جائیں
مراحل راہ الفت کے بہت دشوار ہیں ساقی

لکھا دیوار کا پڑھ لے خموشی کی صدا سن لے
بدلتے دور کے مبہم سے یہ آثار ہیں ساقی

جو کہتی تھیں کہ اک دن دید سے سرشار کر دیں گی
وہی آنکھیں بالآخر مانع دیدار ہیں ساقی

بہت کرتے ہیں کرنے کو تو دعوے جاں نثاری کا
جو تجھ پر جان دیتے ہیں فقط دو چار ہیں ساقی

عجب محفل ہے یہ محفل عجب عالم ہے یہ عالم
نہ ہم مجبور ہیں ساقی نہ ہم مختار ہیں ساقی

تیری بخشش کا یہ انداز کیا ہے کچھ نہیں کھلتا
جو ہیں اہل ہنر وہ لوگ ہی نادار ہیں ساقی

لگی دل کی بجھانے کو لپٹ جاتے ہیں شالوں سے
یہ پروانے کہاں کے پیکر ایثار ہیں ساقی

جو ہوتے ہیں اسیر جام وہ مے کش نہیں ہوتے
رہیں جو بے پیے سرشار وہ مے خوار ہیں ساقی

صابر ابوہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم