MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جب روشنی نہ پا سکے مہر و قمر سے ہم

غزل جب روشنی نہ پا سکے مہر و قمر سے ہم خود بے نیاز ہو گئے شام و سحر سے ہم اس امتحان میں بھی ہے تیرا کرم شریک ہنس کر گزر رہے ہیں رہ پر خطر سے ہم دنیا کو ہم دکھائیں گے معیار بندگی قسمت بنا کے اٹھیں گے اب تیرے در سے […]

جب روشنی نہ پا سکے مہر و قمر سے ہم Read More »

کرتے رہیں وابستہ ان سے چاہے جو افسانے لوگ

غزل کرتے رہیں وابستہ ان سے چاہے جو افسانے لوگ عشق میں رسوائی کی پروا کرتے ہیں کب دیوانے لوگ کس کو صدائیں دیتا ہے تو شہر تمنا میں اے دل کون یہاں ہے تیرا ساتھی سبھی تو ہیں بیگانے لوگ کس کو سنائیں حال تباہی کس کو دکھائیں زخم جگر دور ستم ہے رحم

کرتے رہیں وابستہ ان سے چاہے جو افسانے لوگ Read More »

حوصلے اور سوا ہو گئے پروانوں کے

غزل حوصلے اور سوا ہو گئے پروانوں کے شعلے ارمان بڑھا دیتے ہیں دیوانوں کے یہی عالم ہے اگر لغزش مستانہ کا ڈھیر لگ جائیں گے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے طور بدلا نہ اگر اہل چمن نے اپنا نظر آئیں گے مناظر یہیں ویرانوں کے آہ مظلوم اگر دل سے نکل جائے گی خاک پر

حوصلے اور سوا ہو گئے پروانوں کے Read More »

وہ مثل موج بہار اپنے شباب کی سمت آ رہے ہیں

غزل وہ مثل موج بہار اپنے شباب کی سمت آ رہے ہیں دلوں کے غنچے کھلا رہے ہیں نظر کا دامن سجا رہے ہیں ہر ایک ذرے میں ہر فضا میں وہ حسن بن کر سما رہے ہیں ہماری تاب نگاہ کو وہ ہر آئینہ آزما رہے ہیں ہمارے آنسو سنا رہے ہیں شکستہ دل

وہ مثل موج بہار اپنے شباب کی سمت آ رہے ہیں Read More »

یہی ہوا ہے جو اس رہ گزر سے گزرے ہیں

غزل یہی ہوا ہے جو اس رہ گزر سے گزرے ہیں ہزار حشر کے منظر نظر سے گزرے ہیں وہ راہیں آج بھی نقش وفا سے ہیں روشن مزاج دان محبت جدھر سے گزرے ہیں خدا کرے نہ وہ گزریں کسی کی نظروں سے جو سیل درد و بلا میرے سر سے گزرے ہیں چھپائے

یہی ہوا ہے جو اس رہ گزر سے گزرے ہیں Read More »

اس دور میں سب اپنا چلن بھول گئے ہیں

غزل اس دور میں سب اپنا چلن بھول گئے ہیں حد یہ ہے کہ فن کار بھی فن بھول گئے ہیں صیاد سنائیں تجھے کیوں کر وہی نغمے ہم لہجہ ارباب چمن بھول گئے ہیں ہے اپنی جگہ آج بھی ہر رسم زمانہ لیکن ہمیں آئین وطن بھول گئے ہیں منزل کے نشاں مر کے

اس دور میں سب اپنا چلن بھول گئے ہیں Read More »

مرا خلوص محبت بھی کامراں نہ ہوا

غزل مرا خلوص محبت بھی کامراں نہ ہوا وہ ظلم ڈھاتا رہا مجھ پہ مہرباں نہ ہوا جبین عشق جھکی ہے نہ جھک سکے گی کبھی برائے سجدہ اگر تیرا آستاں نہ ہوا ہے بات کیا جو ابھی تک کھلے نہ لالہ و گل خزاں کے بعد بھی شاداب گلستاں نہ ہوا تری ہنسی پہ

مرا خلوص محبت بھی کامراں نہ ہوا Read More »

ہے برہم پھر مزاج ان کا دل ناکام کیا ہوگا

غزل ہے برہم پھر مزاج ان کا دل ناکام کیا ہوگا یہی صورت رہی تو عشق کا انجام کیا ہوگا خلش دل میں جگر میں درد لب پر مہر خاموشی یہ صورت ہے تو پھر مجھ کو بھلا آرام کیا ہوگا یہ بزم ناز ہے اے دل یہاں بہتر ہے خاموشی سنا کر ان کو

ہے برہم پھر مزاج ان کا دل ناکام کیا ہوگا Read More »

جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں

غزل جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں زمانہ ہنستا ہے ہم پر وہ مسکراتے ہیں مری نگاہ سے جب وہ نظر ملاتے ہیں دل غریب کی دنیا اجاڑ جاتے ہیں ہماری آنکھوں نے ہر انقلاب دیکھا ہے زمانہ والے ہمیں کس لیے ڈراتے ہیں یہ کیسا جشن مناتے ہیں گلستاں والے گلوں کو

جب اپنے غم کا فسانہ انہیں سناتے ہیں Read More »

کوئی ہمدرد نہیں کوئی بھی دم ساز نہیں

غزل کوئی ہمدرد نہیں کوئی بھی دم ساز نہیں اب تو اس بزم میں میری کوئی آواز نہیں نغمہ کیسا کہ لبوں پر بھی ہے اک مہر سکوت دل کی دھڑکن کے سوا اب کوئی آواز نہیں اور ہی ہوتی ہے اک ساز شکستہ کی صدا سوز غم جس میں نہ ہو دل کی وہ

کوئی ہمدرد نہیں کوئی بھی دم ساز نہیں Read More »