MOJ E SUKHAN

موسم گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا

غزل

موسم گل میں کوئی کب ہوش مندانہ چلا
پھول دیکھے جس نے کانٹوں میں وہ دیوانہ چلا

ایک ہی منزل پہ ہر راہی کو جانا تھا مگر
زعم باطل میں چلا جو بھی جداگانہ چلا

اس کے ہر اک گام پر تھی کامرانی ساتھ ساتھ
کارگاہ دہر میں جو سرفروشانہ چلا

واعظان کم نظر ہیں دشمن تمکین ہوش
مٹ گیا وہ ان کی باتوں پر جو دیوانہ چلا

مے کدہ میں رنج و غم کیسا کہاں کی مشکلیں
ہر خلش جاتی رہی جب دور پیمانہ چلا

آفریں صد آفریں یہ ہمت ذوق طلب
شمع کے جلتے ہی جل مرنے کو پروانہ چلا

کوئی اسرار مشیت ہو نہ پایا آشکار
بے خبر آیا تھا کشفیؔ اور بیگانہ چلا

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم