MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی

غزل

وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی
اسے لانا جان گنوانا تھا اور اپنی جان پرائی تھی

وہ رات کا طول طویل سفر کیا کہئے کیسے آئی سحر
کچھ میں نے قصہ چھیڑا تھا کچھ اس نے آس بندھائی تھی

خوابوں سے ادھر کی مسافت میں جو گزری ہے کیا پوچھتے ہو
اک وحشت چار پہر کی تھی اک جلتی ہوئی تنہائی تھی

وہ رات کہ جس کے کناروں پر ہم ملتے اور بچھڑتے تھے
اک بار مجھے تنہا پا کر اس کی بھی آنکھ بھر آئی تھی

ہر شام افق کی دوری پر کوئی سہما سہما پھرتا تھا
تصویر جو اس کی بنائی تو خود اپنی شکل بنائی تھی

صابر وسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم