MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حوصلے اور سوا ہو گئے پروانوں کے

غزل

حوصلے اور سوا ہو گئے پروانوں کے
شعلے ارمان بڑھا دیتے ہیں دیوانوں کے

یہی عالم ہے اگر لغزش مستانہ کا
ڈھیر لگ جائیں گے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

طور بدلا نہ اگر اہل چمن نے اپنا
نظر آئیں گے مناظر یہیں ویرانوں کے

آہ مظلوم اگر دل سے نکل جائے گی
خاک پر ڈھیر نظر آئیں گے ایوانوں کے

قصۂ سرمد و منصور نہ چھیڑ اے ہمدم
ورنہ جذبات بھڑک اٹھیں گے دیوانوں کے

آپ محفل میں نہ آتے تو بہت اچھا تھا
آج تو ہوش اڑے جاتے ہیں فرزانوں کے

دور حاضر کی کشاکش کا یہ عالم ہے کہ بس
حوصلے پست ہوئے جاتے ہیں انسانوں کے

کیا بگاڑے گی بھلا شورش طوفاں اس کا
جس نے رخ موڑ دیے بارہا طوفانوں کے

دوستو باتیں بناتے ہو سر ساحل کیا
آؤ رخ موڑ کے دیکھیں ذرا طوفانوں کے

اس سے امید کرم کیا کرے کوئی کشفیؔ
کام آتا ہو جو اپنوں کے نہ بیگانوں کے

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم