MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بت خانے میں

غزل میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بت خانے میں رند ہوں مجھ کو پڑا رہنے دو مے خانے میں اس کو سمجھی ہے نہ سمجھے گی مجازی دنیا ہے حقیقت ہی حقیقت مرے افسانے میں لئے پھرتی ہے مجھے منزل جاناں کی تلاش چین حاصل ہے گلستاں میں نہ ویرانے میں ان کے […]

میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بت خانے میں Read More »

غم سے گھبرا کے قیامت کا طلب گار نہ بن

غزل غم سے گھبرا کے قیامت کا طلب گار نہ بن اتنا مایوس کرم اے دل بیمار نہ بن خواہش دید ہے تو تاب نظر پیدا کر ورنہ بہتر ہے یہی طالب دیدار نہ بن مجھے منظور ہے یہ برق گرا دے مجھ پر مجھ سے بیگانہ مگر اے نگہ یار نہ بن دامن حال

غم سے گھبرا کے قیامت کا طلب گار نہ بن Read More »

آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر

غزل آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر کائنات اک محشر خاموش ہے تیرے بغیر آ کہ پھر دل میں نہیں اٹھتی کوئی موج نشاط سرد پانی بادۂ سرجوش ہے تیرے بغیر نیند آ آ کر اچٹ جاتی ہے تیری یاد میں تار بستر نشتر آغوش ہے تیرے بغیر جلوۂ ہر

آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیر Read More »

شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا

غزل شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا پردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیا مانگ کر ہم لائے تھے اللہ سے اک درد عشق وہ بھی اب تقدیر نے اوروں کا حصہ کر دیا دو ہی انگارے تھے ہاتھوں میں خدائے عشق کے ایک کو دل ایک کو میرا

شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیا Read More »

میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں

غزل میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں تو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیں اور یہ کیا ہے ضبط جو سوز پنہانی نہیں آگ روشن دل میں ہے چہرے پہ تابانی نہیں پھول کے پتے بکھر کر اک فسانہ کہہ گئے جس کی ہو ترتیب ممکن وہ پریشانی نہیں مجھ پر

میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیں Read More »

ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم

غزل ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم کیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہم خود ہی ساز بے خودی کو چھیڑ دیتے ہیں کبھی خود ہی سنتے ہیں حدیث ساغر و پیمانہ ہم دفعتاً ساز دو عالم بے صدا ہو جائے گا کہتے کہتے رک گئے جس دن ترا افسانہ ہم

ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہم Read More »

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے

غزل چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے قفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہے کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے سحر تک سعیٔ نالہ رائیگاں معلوم ہوتی ہے یہ دنیا تو بقدر یک فغاں معلوم ہوتی ہے کسی کے دل

چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہے Read More »

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں

غزل جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں لگاؤ ہے مری تنہائیوں سے فطرت کو تمام رات ستارے لگائے جاتے ہیں سمائی جاتی ہیں دل میں وہ کفر بار آنکھیں یہ بت کدے مرے کعبے پہ چھائے جاتے ہیں سمجھ حقیر نہ ان زندگی کے

جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں Read More »

جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں

غزل جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں غالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیں درد سر ان کے لئے کیوں ہے مرا عجز و نیاز میرے سجدوں سے وہ کیوں چیں بہ جبیں ہوتے ہیں ان کی محفل سے تصور کا تعلق ہے ہمیں آنکھ کر لیتے ہیں جب بند وہیں ہوتے ہیں

جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیں Read More »

کچھ اس طرح تری تفسیر کر رہے ہیں ہم

غزل کچھ اس طرح تری تفسیر کر رہے ہیں ہم چھلکتے جام کو تصویر کر رہے ہیں ہم ہمارے بچوں کے سر مانگتی ہیں بنیادیں یہ کیسے شہر کی تعمیر کر رہے ہیں ہم وہ دور راہ میں انساں نہ جل رہا ہو کوئی جسے چراغ سے تعبیر کر رہے ہیں ہم تم اپنے زخموں

کچھ اس طرح تری تفسیر کر رہے ہیں ہم Read More »