MOJ E SUKHAN

میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بت خانے میں

غزل

میرا درماں ہے نہ کعبے میں نہ بت خانے میں
رند ہوں مجھ کو پڑا رہنے دو مے خانے میں

اس کو سمجھی ہے نہ سمجھے گی مجازی دنیا
ہے حقیقت ہی حقیقت مرے افسانے میں

لئے پھرتی ہے مجھے منزل جاناں کی تلاش
چین حاصل ہے گلستاں میں نہ ویرانے میں

ان کے کہنے سے اسے توڑ دوں کیسے آخر
علم جن کو نہیں کیا ہے مرے پیمانے میں

ربط باہم بھی عجب شے ہے گلے ملتے ہی
شمع کا نور نظر آتا ہے پروانے میں

حسن روپوش ہے تو دید کے قابل کیا ہے
اب کسے دیکھوں بھلا دہر کے غم خانے میں

سینچے جاؤ اسے تم اپنے لہو سے کشفیؔ
پھول کھل جائیں گے اک دن اسی ویرانے میں

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم