MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ اس طرح تری تفسیر کر رہے ہیں ہم

غزل

کچھ اس طرح تری تفسیر کر رہے ہیں ہم
چھلکتے جام کو تصویر کر رہے ہیں ہم

ہمارے بچوں کے سر مانگتی ہیں بنیادیں
یہ کیسے شہر کی تعمیر کر رہے ہیں ہم

وہ دور راہ میں انساں نہ جل رہا ہو کوئی
جسے چراغ سے تعبیر کر رہے ہیں ہم

تم اپنے زخموں کا کوئی حساب مت رکھنا
بیاض قلب پہ تحریر کر رہے ہیں ہم

تری خرد کو کسی دن جکڑ کے رکھ دیں گے
ابھی جنون کو زنجیر کر رہے ہیں ہم

ہے کیسا کرب کہ اپنی ہی سرزمین پہ قیسؔ
دفاع سنت شبیر کر رہے ہیں ہم

قیس رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم